ابسنتھیم ABSINTHIUM (Common Worm Wood)

ابسنتھیم کا سب سے نمایاں اثر دماغ پر ہوتا ہے اور یہ مرگی کے مرض میں بہت کارآمد ثابت ہوئی ہے۔ اگر مرگی میں کیوپرم (Cuprum) کی طرح جسم نیلا ہو جاتا ہو اور ہاتھ پائوں مڑنے لگیں تو ان علامات میں کیوپرم کے علاوہ ابسنتھیم بھی دوا ہو سکتی ہے۔ مرگی کے حملہ سے قبل مریض اعصابی بے چینی محسوس کرتا ہے، اچانک متلی ہوتی ہے، وہمی نظارے اور خیالی چیزیں نظر آنے لگتی ہیں، جسم کانپتا ہے اور زبان دانتوں میں آجاتی ہے۔ منہ سے جھاگ نکلتی ہے اور مریض بے ہوش ہو جاتا ہے۔ اعصابی ہیجان کے ساتھ عمومی بے خوابی بھی پائی جاتی ہے اور ہسٹریائی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ اس دوا سے تعلق رکھنے والی مرگی زہریلی کھمبیاں (Mushroom) کھانے سے پیدا ہونے والے زہر کے اثر سے ملتی ہے۔ کھمبیاں کھانے میں ہمیشہ احتیاط سے کام لینا چاہئے، کبھی خود توڑ کر نہیں کھانی چاہئیں کیونکہ ان کی بعض قسمیں بہت خطرناک ہوتی ہیں جن کی پہچان ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔
ابسنتھیم کا مریض کھلی فضا اور اونچی جگہوں سے گھبراتا ہے، چکر آتے ہیں جن میں پیچھے کی طرف گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ مریض کی یادداشت کمزور ہو جاتی ہے اور وہ توہمات کا شکار رہتا ہے، ہر چیز سے بے پرواہ ہو جاتا ہے، خیالات پریشان ہوتے ہیں، آنکھوں کی پتلیاں غیر متوازن ہو کر مختلف سمتوں میں گھومتی ہیں، نظر دھندلا جاتی ہے اور گدی میں درد جلسیمیم سے مشابہ ہوتا ہے۔
ابسنتھیم میں معدے کی علامتیں بھی نمایاں ہیں۔ بھوک نہیں لگتی اور غذا ہضم نہیں ہوتی۔ ڈکار، متلی، قے، معدے میں اپھارہ اور ہوا کا سخت زور، ایسے مریض کو عموماً قبض رہتی ہے، پیشاب بہت آتا ہے، جن کا رنگ گہرا اور بو سخت ہوتی ہے۔ بعض دفعہ مریض کی زبان موٹی ہو کر باہر نکل آتی ہے اور کانپتی ہے، بولنے میں دقت ہوتی ہے اور فالجی اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔
عورتوں میں سن یاس سے قبل ہی حیض بند ہو جائے اور ابسنتھیم کی دیگر بنیادی علامتیں موجود ہوں تو ابسنتھیم حیض کو دوبارہ جاری کر دیتی ہے۔
سینہ میں دل کے مقام پر بوجھ محسوس ہوتا ہے اور دل کی دھڑکن بے قاعدہ اور بہت تیز ہو جاتی ہے۔ گلے میں زخم اور حلق متورم، گولا پھنسنے کا احساس ہوتا ہے۔ پائوں بہت ٹھنڈے، کمر اور کندھوں میں درد، اعضاء کانپتے ہیں اور تشنجی علامات نمایاں ہوتی ہیں۔

طاقت : 30یا حسب تجربہ چھوٹی یا اونچی طاقت

اپنا تبصرہ بھیجیں