اسلام میں اطاعت کا بلند معیار

عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ عَلیَ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ اسَّمْعُ وَالطَّاعَۃُ فِیْمَا اَحَبَّ وَلَوْکَرِہَ اِلَّا اَنْ یُّؤمَرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَاِنْ اُمِرَ بِمَعْصِیَۃٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَۃَ (بخاری)

ترجمہ:۔عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر مسلمان پر اپنے افسروں کی ہر بات سننا اور ماننا فرض ہے خواہ اسے ان کا کوئی حکم اچھا لگے یا برا لگے۔ سوائے اس کے کہ وہ کسی ایسی بات کا حکم دیں۔ جس میں خدا اور رسول کے کسی حکم کی (یا کسی بالا افسر کے حکم کی )نافرمانی لازم آتی ہو۔ اگر وہ ایسی نافرمانی کا حکم دیں تو پھر اس میں ان کی اطاعت فرض نہیں۔
تشریح :۔ یہ حدیث اسلامی معیار اطاعت کا بنیادی اصول پیش کرتی ہے اسلام ایک انتہا درجہ کا نظم و ضبط والا مذہب ہے ۔ وہ کسی شخص کو اپنے حلقہ میں جبراً داخل کرنے کا موید نہیں اور صاف اعلان کرتا ہے کہ لَا اِکْرَاہ فِی الدِّینِ (یعنی دین کے معاملہ میں کوئی جبر نہیں) لیکن جب کوئی شخص خوشی اور شرح صدر کے ساتھ اسلام قبول کرتا ہے تو پھر اسلام اس سے اس نظم و ضبط کی توقع رکھتا ہے جو ایک منظم قوم کے شایانِ شان ہے وہ اپنے ہر فرد کو کامل اطاعت کانمونہ بنانا چاہتا ہے۔ اور افسروں کے حکموں پر حیل و حجت کی اجازت نہیں دیتا کہ جو حکم پسند ہوا وہ مان لیا او رجو ناپسند ہوا اس کا انکار کردیا ’’ سنو اور مانو‘‘ اسلام کا ازلی نعرہ رہا ہے مسلمان کے اس ضابطہ ٔ اطاعت میں صرف ایک ہی استثناء ہے اور وہ یہ کہ اسے کسی ایسی بات کا حکم دیا جائے جو صریح طور پر خدا اور اس کے رسول یا کسی بالا افسر کے حکم کے خلاف ہو۔ اس کے علاوہ ہر حکم میں خواہ وہ کچھ ہو اور کیسے ہی حالات میں دیا جائے’’ سنو اور مانو‘‘ کا اٹل قانون چلتا ہے۔
اور یہ جو اس حدیث میں الطاعۃ (یعنی مانو) کے لفظ کے ساتھ السمع (یعنی سنو) کے لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس میں اس لطیف حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ ایک مسلمان کا کام صرف منفی قسم کی اطاعت نہیں ہے کہ جو حکم اسے پہنچ جائے وہ اسے مان لے اور بس بلکہ اسے مثبت قسم کی شوق امیز اطاعت کا نمونہ دکھانا چاہئے اور گویا اپنے افسروں کی طرف کان لگائے رکھنا چاہئے کہ کب ان کے منہ سے کوئی بات نکلے اور کب میں اسے مانوں۔ ورنہ محض اطاعت کیلئے اطاعۃ (یعنی مانو) کا لفظ بولنا کافی تھا۔ اور السمع (یعنی سنو) کا لفظ زیادہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس لفظ کا زیادہ کرنا یقینا اسی غرض سے ہے کہ تارِسمی اطاعت کی بجائے شوق آمیز اطاعت کا معیار قائم کیا جائے ۔ پس اسلامی ضابطہ ٔ اطاعت کا خلاصہ یہ ہے کہ :